Brailvi Books

حرص
67 - 228
 یہ رب عزوجل کو ناراض اور تجارت کو برباد کرنے والا کام ہے ۔دنیا کی فانی دولت کی خاطر خود کو جہنَّم کے شُعلوں کی نَذر کرنابہت بڑی جرأت ہے۔ روحُ البیان میں منقول ہے:جو شخص ناپ تول میں خِیانت کرتا ہے قِیامت کے روز اسے جہنَّم کی گہرائیوں میں ڈالاجائے گا اور دوپہاڑوں کے درمیان بٹھا کرحکم دیاجائے گا: ’’ان پہاڑوں کو ناپو اور تولو‘‘جب تولنے لگے گا تو آگ اس کو جلا دیگی۔ ( روح البیان ج۰۱ص۴۶۳) 
گر ان کے فضل پہ تم اعتماد کر لیتے
خدا گواہ کہ حاصِل مُراد کر لیتے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۵)  سُود خور کا انجام 
	حضرت علامہ ابن حجر مکّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا تو پابندی سے اپنے والد ماجد رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی قَبْر پر حاضری دیتا اور قرآن پاک کی تلاوت کیا کرتا تھا ۔ایک مرتبہ رمضان المبارک میں نماز فجر کے فوراًبعد قبرستان گیا۔ اس وقت قبرستان میں میرے علاوہ کوئی نہ تھا ۔ میں نے اپنے والد صاحب رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کیقَبْر کے قریب بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دی، کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اچانک مجھے کسی کے زور زور سے رونے کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز ایک قَبْر سے آرہی تھی ۔میں گھبرا گیا اور تلاوت چھوڑ کر قَبْر کی طرف دیکھنے لگا ،ایسا لگتا تھا جیسے قَبْر کے اندر کسی کو عذاب دیا جارہا ہو ، قَبْر میں دفن مُردے کی آہ وزاری سن کر مجھے