لوگوں سے پوچھا:دنیا میں یہ کیا کام کرتا تھا؟ بتایا گیا کہ یہ سُود خور تھا اور کم تولا کرتا تھا۔ (تذکرۃُ الاولیاء ص۲۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سامان اور سودا دیتے وقت ناپ تول میں کمی کرنا ایک قسم کی چوری اور خیانت ہے جو حرام اورجہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں پورا پورا تولنے کی تاکید کی گئی ہے چنانچہ پارہ 15سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 35میں ارشاد ہوتا ہے : وَ اَوْفُوا الْکَیۡلَ اِذَاکِلْتُمْ وَ زِنُوۡا بِالۡقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیۡمِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿۳۵﴾ (پ۵۱،بنی اسرآئیل:۵۳،۶۳)
ترجمہ کنزلایمان: اور ماپو تو پورا ماپو اور برابر ترازو سے تولو یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا۔
کم تولنے والوں کو تنبیہہ کرتے ہوئے فرمایا: وَیۡلٌ لِّلْمُطَفِّفِیۡنَ ۙ﴿۱﴾ الَّذِیۡنَ اِذَا اکْتَالُوۡا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوۡنَ ۫﴿ۖ۲﴾ وَ اِذَا کَالُوۡہُمْ اَوۡ وَّزَنُوۡہُمْ یُخْسِرُوۡنَ ﴿ؕ۳﴾ اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِکَ اَنَّہُمۡ مَّبْعُوۡثُوۡنَ ۙ﴿۴﴾لِیَوْمٍ عَظِیۡمٍ ۙ﴿۵﴾ یَّوْمَ یَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿۶﴾ (پ۰۳،المطففین:۱تا۶)
ترجمہ کنزالایمان:کم تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا لیں اور جب انہیں ماپ یا تول کر دیں کم کردیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کیلئے جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔
تاجر اسلامی بھائیوں کو چاہئے کہ ناپ تول میں ہرگز ہرگز کمی نہ کریں ،