Brailvi Books

حرص
64 - 228
ایک پتھر اس کے اوپر بھی گر ا اور وہ بھی ہلاک ہو گئی۔جو پتھر اس قوم پر برسائے گئے وہ کنکروں کے ٹکڑے تھے اور ہر پتھر پر اُس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جو اُس پتھر سے ہلاک ہوا۔(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۱۹۶،پ۸،الاعراف،تحت الایۃ:۴۸) 
پتھر نے پیچھا کیا!
	حضرتِ سیِّدُنالوطعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کا ایک تاجِر اُس وَقت کاروباری طور پر مکّۃُالمکرَّمہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْمًا آیا ہوا تھا، اُس کے نام کا پتھر وَہیں پَہُنچ گیا مگر فِرشتوں نے یہ کہہ کر روک لیا کہ یہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حرم ہے۔ چُنانچِہ وہ پتھر 40 دن تک حرم کے باہَر زمین و آسمان کے درمیان مُعَلّق ( یعنی لٹکا) رہا جُوں ہی وہ تاجِر فارِغ ہوکر مکّۃُالمکرَّمہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْمًاسے نکل کر حرم سے باہَرہوا وہ پتھر اُس پر گر ا اوروہ وَہیں ہلاک ہوگیا۔ (مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۶۷ماخوذاً)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ لواطت کس قدر شدید اور ہولناک گناہ کبیرہ ہے کہ اس جُرْم میں قومِ لوط کی بستیاں اُلٹ پلٹ کر دی گئیں اور سارے مُجرِم پتھراؤ کے عذاب سے مر کر دنیا سے نیست و نابود ہو گئے۔ 
اللّٰہ عزوجل کی بارگاہ میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ گناہ
	دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 46 صفحات پر مشتمل رسالے ’’قومِ لُوط کی تباہ کاریاں ‘‘کے صفحہ 5پرشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہلکھتے ہیں: حضرتِ سیِّدُناسُلَیمانعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے