Brailvi Books

حرص
63 - 228
مگر بدفعلی کے نشے میں چُور سَرکش قوم نے بے ہُودہ جوابات دئیے اور بُرے ارادے سے باز آنے پر تیار نہ ہوئے تو آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام اپنی تنہائی اور مہمانوں کے سامنے شرمندگی کے خیال سے غمگین و رَنجیدہ ہو گئے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلَیْہِ السَّلامنے کہا:’’اےاللہ (عَزَّوَجَلَّ)کے نبی(عَلَیْہِ السَّلام)! آپ بے فکر رہئے، ہم لوگاللہ عَزَّوَجَلَّ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو اِن بدکاروں پر عذاب لے کر اُترے ہیں، لہٰذا آپ عَلٰیہ السَّلاممومنین اور اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر صبح ہونے سے پہلے ہی اس بستی سے دُور نکل جائیں اور کوئی شخص پیچھے مڑ کر اس بستی کی طرف نہ دیکھے ورنہ وہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔‘‘ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا لوط عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام اپنے گھر والوں اور مومنین کو ہمراہ لے کر بستی سے باہر نکل گئے۔ پھر حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلَیْہِ السَّلام اس شہر کی پانچوں بستیوں کو اپنے پروں پر اٹھا کر آسمان کی طرف بلند ہوئے اور کچھ اوپر جا کر ان بستیوں کو الٹ دیا اور یہ آبادیاں زمین پر گر کر چکنا چور ہو کر زمین پر بکھر گئیں۔ پھر کنکر کے پتھروں کا مینہ برسا اور اس زور سے پتھر برسے کہ قومِ لُوط کے تمام لوگ مر گئے اور ان کی لاشیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئیں۔ عین اس وقت جب کہ یہ شہر اُلٹ پَلٹ ہو رہا تھا حضرتِ سیِّدُنا لوط عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام کی ایک بیوی جس کا نام ’’وَاعِلَہ‘‘ تھا جو درحقیقت مُنافِقہ تھی اور قوم کے بدکاروں سے محبت رکھتی تھی، اس نے پیچھے مُڑ کر دیکھ لیا، اس کے منہ سے نکلا ’’ہائے رے میری قوم‘‘، یہ کہہ کر وہ ایک جگہ کھڑی ہو گئی ۔ عذابِ الٰہی کا