حضرتِ سیِّدُنا لوط عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام کے اس اِصلاحی بیان کو سن کر ان کی قوم نے نہایت بے باکی اور انتہائی بے حیائی کے ساتھ کیا کہا؟ اس کو قرآن سے سنئے: وَمَاکَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخْرِجُوۡہُمۡ مِّنۡ قَرْیَتِکُمْ ۚ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوۡنَ ﴿۸۲﴾ (پ۸،الاعراف:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ انکو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں۔
جب قومِ لُوط کی سَرکشی اور بدفعلی قابلِ ہدایت نہ رہی تو اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا جبرائیلِ امین عَلَیْہِ السَّلام چند فرشتوں کو ہمراہ لے کر آسمان سے اُتر پڑے۔ یہ فرشتے مہمان بن کر حضرتِ سیِّدُنا لُوط عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام کے پاس پہنچے اور یہ سب فرشتے بہت ہی حسین اور خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے۔ ان مہمانوں کے حُسن و جمال کو دیکھ کر اور قوم کی بدکاری کا خیال کر کے حضرتِ سیِّدُنا لوط عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام بہت فکرمند ہوئے۔ آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلامکا اندیشہ دُرُست ثابت ہوا اور تھوڑی دیر بعد قوم کے بَدکاروں نے حضرتِ سیِّدُنا لوطعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور ان مہمانوں کے ساتھ بدفعلی کے اِرادہ سے دیوار پر چڑھنے لگے۔ حضرتِ سیِّدُنا لوط عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام نے نہایت دل سوزی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھایا اور اس بُرے کام سے منع کیا