Brailvi Books

حرص
61 - 228
 قِسم کے پھل اور میوے بکثرت پیدا ہوتے تھے۔ شہر کی خوشحالی کی وجہ سے اَطراف کی آبادیوں کے لوگ اکثر مہمان بن کریہاں آیا کرتے اور شہر کے لوگوں کو اُن مہمانوں کی مہمان نوازی کا بار اُٹھانا پڑتا تھا۔ اس لئے اس شہر کے لوگ مہمانوں کی آمد سے بہت ہی کَبِیدہ خاطِر اور تنگ ہوچکے تھے مگر مہمانوں کو روکنے اور بھگانے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ اس ماحول میں اِبلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا اور ان لوگوں سے کہنے لگا کہ اگر تم لوگ مہمانوں کی آمد سے نجات چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی مہمان تمہاری بستی میں آئے تو تم لوگ زبردستی اس کے ساتھ بدفعلی کرو۔ چنانچہ سب سے پہلے اِبلیس خود ایک خوبصورت لڑکے کی شکل میں مہمان بن کر اس بستی میں داخل ہوا اور ان لوگوں سے خوب بدفعلی کرائی اس طرح یہ ’’فعلِ بد‘‘ ان لوگوں نے شیطان سے سیکھا۔ پھر رفتہ رفتہ یہ لوگ اس گندے کام کے  اِس قدرحریص بن گئے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرنے لگے۔ (روح البیان،ج۳،ص۷۹۱،پ۸،الاعراف،تحت الایۃ:۴۸) حضرتِ سیِّدُنا لوط عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام نے ان لوگوں کو اس فعلِ بد سے منع کرتے ہوئے اس طرح سمجھایا :اَتَاْتُوۡنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۰﴾اِنَّکُمْ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلْ اَنۡتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوۡنَ ﴿۸۱﴾     (پ۸،الاعراف:۰۸،۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان: کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔