Brailvi Books

حرص
60 - 228
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ  ’’قوم عاد‘‘ جو بڑی طاقتور ، قدآوراور خوشحال قوم تھی،ان کے پاس لہلہاتی کھیتیاں اور ہرے بھرے باغات تھے۔ پہاڑوں کو تراش خَراش کر ان لوگوں نے گرمیوں اور سردیوں کے لئے الگ الگ محلات تعمیر کئے تھے، ان کو اپنی کثرت اور طاقت پر بڑا اِعتماد، اپنے تموُّل اور سامانِ عیش و عشرت پر بڑا ناز تھا مگر کُفْر اور بد اعمالیوں و بد کاریوں کی نحوست نے ان لوگوں کو قہرِ الٰہی کے عذاب میں اس طرح گرفتار کردیا کہ آندھی کے جھونکوں نے ان کی پوری آبادی کو جھنجھوڑ کر مَلیا میٹ کردیا، مضبوط محلات کو توڑ پھوڑ دیا اور اس پوری قوم کے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ۔ ہمیں چاہئے کہ اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نافرمانیوں اور بداعمالیوں سے ہمیشہ بچتے رہیں۔ اپنی زندگی اطاعتِ الٰہی میں بسر کریں ، ورنہ قراٰنِ مجید کی آیتیں ہمیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یہ دَرْس دے رہی ہیں کہ نیکی کی تاثیر آبادی اور بدی کی تاثیر بربادی ہے۔
؎   زمیں بوجھ سے میرے پھٹتی نہیں ہے
یہ تیرا ہی تو ہے کرم یاالٰہی
(وسائل بخشش ص ۲۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۳)  پتھروں کی برسات
	 حضرتِ سیِّدُنا لُوط عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام کے شہر ’’سَدُوم‘‘ کی بستیاں بہت آباد اور نہایت سَرسبز و شاداب تھیں اور وہاں طرح طرح کے اَناج اور قِسم