Brailvi Books

حرص
59 - 228
 میں داخل ہو کر دروازوں کو بند کرلیا مگر آندھی کے جھونکے نہ صِرْف دروازوں کو اُکھاڑ کر لے گئے بلکہ پوری عمارتوں کو جھنجھوڑ کر ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ سات رات اور آٹھ دن مسلسل یہ آندھی چلتی رہی یہاں تک کہ قومِ عاد کا ایک بھی شخص زندہ نہ بچا۔جب آندھی ختم ہوئی تو اس قوم کی لاشیں زمین پر اس طرح پڑی ہوئی تھیں جس طرح کھجوروں کے درخت اُکھڑ کر زمین پر پڑے ہوں ۔ قراٰن پاک میں ان کی اسی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے ،چنانچہ پارہ 29 کی سورۃالحاقۃ کی آیت 6تا8 میں ہے : وَ اَمَّا عَادٌ فَاُہۡلِکُوۡا بِرِیۡحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۙ﴿۶﴾سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الْقَوْمَ فِیۡہَا صَرْعٰی ۙ کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ ۚ﴿۷﴾فَہَلْ تَرٰی لَہُمۡ مِّنۡۢ بَاقِیَۃٍ ﴿۸﴾  (پ۹۲،الحاقۃ:۶تا۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور رہے عاد وہ ہلاک کئے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے وہ ان پر قوت سے لگا دی سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں دیکھو پچھڑے ہوئے گویا وہ کھجور کے ڈنڈ (سوکھے تنے) ہیں گرے ہوئے تو تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو!
	پھر قدرتِ خداوندی سے کالے رنگ کے پرندوں کا ایک غول نمودار ہوا جنہوں نے ان کی لاشوں کو اُٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ حضرتِ سیِّدُنا ہود عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام  چند مومنین کو ساتھ لے کر مکّۂ مکرَّمہ (زَادَ ھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعظِیْماً) چلے گئے اوروہیں آباد ہوگئے۔ (تفسیر الصاوی،ج۲،ص۶۸۶،پ۸،الاعراف،تحت الایۃ:۰۷)