Brailvi Books

حرص
58 - 228
وَ السَّلام) پر ایمان نہ لاؤ گے۔ حضرت  مَرْثَدبِن سَعْد(رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) نے جب اپنا ایمان ظاہر کردیا تو قومِ عاد کے غُنڈوں نے ان کو مار پیٹ کر الگ کردیا اور دعائیں مانگنے لگے۔ اس وقتاللہعَزَّوَجَلَّنے سفید، سُرخ اور سیاہ رنگ کی تین بدلیاں بھیجیں۔ آسمان سے ایک آواز آئی :’’ اے قوم عاد! تم لوگ اپنے لئے ان میں سے ایک بدلی کو پسند کرلو۔‘‘ ان لوگوں نے کالی بدلی کو پسند کرلیا اور یہ لوگ اس خیال میں مَگن تھے کہ کالی بدلی خوب زیادہ بارش دے گی۔ چنانچہ وہ ابرِ سیاہ قومِ عاد کی آبادیوں کی طرف چل پڑا۔ قومِ عاد کے لوگ کالی بدلی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ حضرتِ سیِّدُنا ہود عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام  نے فرمایا کہ اے میری قوم! دیکھ لو عذابِ الٰہی ابر کی صورت میں تمہاری طرف بڑھ رہا ہے مگر قوم کے گستاخوں نے اپنے نبی (عَلَیْہِ السَّلام) کو جھٹلا دیا اور کہا کہ کہاں کا عذاب اور کیسا عذاب؟ 
ہٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا (پ۶۲،الاحقاف:۴۲)
ترجمۂ کنز الایمان: یہ بادل ہے کہ ہم پر برسے گا۔
                                  ( روح البیان،ج۳،ص۶۸۱تا۹۸۱،پ۸، الاعراف:تحت الایۃ۰۷)
	یہ بادل مغرب کی طرف سے آبادیوں کی طرف برا بربڑھتا رہا اور ایک دَم اس میں سے ایک آندھی آئی جو اتنی شدید تھی کہ اونٹوں کو سواروں سمیت اُڑا کر کہیں سے کہیں پھینک دیتی تھی۔ پھر اتنی زور دار ہو گئی کہ درختوں کو جڑوں سے اُکھاڑ کر اُڑا لے جانے لگی۔ یہ دیکھ کر قومِ عاد کے لوگوں نے اپنے مضبوط مکانوں