وَ السَّلام کو اُن لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا مگر اس قوم نے اپنے تکبُّر اور سَرکشی کی وجہ سے حضرتِ سیِّدُنا ہود عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام کو جھٹلا دیا اور اپنے کَفْر پر اَڑے رہے۔ حضرتِ سیِّدُنا ہود عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام بار بار اُن سَرکشوں کو عذابِ الٰہی سے ڈراتے رہے، مگر گناہوں کی حِرْص میں مبتلا اُس قوم نے نہایت ہی بے باکی اور گستاخی کے ساتھ اپنے نبی (عَلَیْہِ السَّلام) سے یہ کہہ دیا : اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللہَ وَحْدَہٗ وَنَذَرَ مَاکَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۷۰﴾ (پ۸،الاعراف:۰۷)
ترجمۂ کنز الایمان: کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ ہم ایک اللّٰہ کو پوجیں اور جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، انہیں چھوڑ دیں تو لاؤ جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو۔
آخِرَش عذابِ الٰہی کی جھلکیاں شروع ہو گئیں۔ تین سال تک بارش ہی نہیں ہوئی اور ہر طرف قَحط و خشک سالی کا دور دورہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ لوگ اَناج کے دانے دانے کو ترس گئے۔ اُس زمانے کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی ’’بلا‘‘ اور ’’مصیبت‘‘ آتی تھی تو لوگ مکّۂ مُعَظَّمَہ (زَادَ ھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعظِیْماً) جا کر خانۂ کعبہ میں دعائیں مانگتے تھے اوربلائیں ٹل جاتی تھیں۔ چنانچہ ایک جماعت مکّۂ مُعَظَّمَہ (زَادَ ھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعظِیْماً) گئی۔ اس جماعت میں حضرت مَرْثَدبِن سَعْد (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) بھی تھے جو مومِن تھے مگر اپنے ایمان کو قوم سے چھپائے ہوئے تھے۔ جب ا ن لوگوں نے مکّۂ مُعَظَّمَہ (زَادَ ھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعظِیْماً ) میں دعا مانگنی شروع کی تو حضرت مرثد بن سعد (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ)نے جوشِ ایمانی سے تڑپ کر کہا کہ اے میری قوم! تم لاکھ دعائیں مانگو، مگر اس وقت تک پانی نہیں برسے گا جب تک تم اپنے نبی حضرت ہُود (عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ