Brailvi Books

حرص
55 - 228
و بیزار ہو کر شکار سے باز رہے {۲}کچھ لوگ اس کام کو دل سے بُرا جان کر خاموش رہے مگردوسروں کو منع نہ کرتے تھے بلکہ منع کرنے والوں کو سمجھاتے کہ تم لوگ ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللّٰہ تعالیٰ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے اور {۳} کچھ وہ سَرکش و نافرمان لوگ تھے جنہوں نے حکمِ خداوندی کی اعلانیہ مخالفت کی اور شیطان کی حیلہ بازی کو مان کرہفتے کے دن شکار کرلیا اور ان مچھلیوں کو کھایا اور بیچا بھی۔
	جب نافرمانوں نے منع کرنے کے باوجود شکار کرلیا تو منع کرنے والی جماعت نے کہا کہ اب ہم ان گنہگاروں سے کوئی میل ملاپ نہ رکھیں گے۔ چنانچہ ان لوگوں نے گاؤں کو تقسیم کر کے درمیان میں ایک دیوار بنالی اور آمد و رفت کے لئے  ایک الگ دروازہ بھی بنا لیا۔ حضرتِ سیِّدُنا داوٗد عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلام نے غضب ناک ہو کر ہفتے کے دن شکار کرنے والے نافرمانوں پر لعنت فرما دی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ایک دن خطا کاروں میں سے کوئی باہر نہیں نکلا۔ جب انہیں دیکھنے کے لئے کچھ لوگ دیوار پر چڑھے تو دیکھا کہ وہ سب لوگ بندروں کی صورت میں مَسخ ہوگئے ہیں۔ اب لوگ ان مجرموں کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو وہ بندر اپنے رشتہ داروں کو پہچانتے تھے اور ان کے پاس آ کر اُن کے کپڑوں کو سُونگھتے تھے اور زار و زار روتے تھے ،مگر لوگ اُن بندر بن جانے والوں کو نہیں پہچانتے تھے۔ اُن بندر بن جانے والوں کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ یہ سب تین دن تک زندہ رہے اور اس درمیان میں کچھ بھی کھا پی نہ سکے اور یوں ہی بھوکے پیاسے سب کے سب ہلاک ہو گئے۔(تفسیرالصاوی ،ج۱،ص۲۷، پ۱،البقرۃ :تحت الایۃ۵۶)اس