میں گناہوں کی دلدل سے کیسے نکلا؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!گناہوں کی دَلْدَل سے نکلنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہردَم وابستہ رہئے ، آپ کی ترغیب وتحریص کے لئے ایک مَدَنی بہار پیشِ خدمت ہے ، چنانچِہ باب المدینہ (کراچی) کے ایک اسلامی بھائی نے گناہوں کی دلدل سے نکلنے کی داستان کچھ یوں بیان کی :یہ اس دَور کی بات ہے جب پاکستان میںVCR نیا نیا مُتعارِف ہوا تھا ،ہمارے کچھ رشتہ دار روزی کمانے کے لئے بیرون ملک گئے تو مال کے ساتھ ساتھ وہاں سے وی سی آر کی نحوست بھی اپنے گھروں میں لے آئے۔ میں اس وقت کم سِن تھا اور بُرے بھلے کا شعور نہ تھا ، لہٰذا میں اور میرے ہم عمر فلم دیکھنے کے شوق میں روزانہ اپنے رشتہ داروں کے گھر پہنچ جاتے ۔ عِشق ومحبت کی داستانیں اور فلمی اداکاراؤں کی منحوس ادائیں دیکھ دیکھ کر میں بے راہ رَوی کا شکار ہوگیا ۔ عورتوں کو بُری نظر سے دیکھنا میرا معمول بن گیا ۔ میری بدنگاہیوں کا سلسلہ دَراز ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ میں اپنے ہاتھوں سے اپنی جوانی برباد کرنے لگا۔اپنے ہی جیسے گندے ذہن کے دوستوں کی صحبت نے مجھے شہوت کی تسکین کے لئے اَمردوں سے بدفعلی کا راستہ دکھایا لیکن اُس وقت نہ تو مجھے اس فعل کے حرام ہونے کے بارے میں علم تھا اور نہ ہی مجھے کوئی سمجھانے والا تھا۔اب میں کبھی کبھار جِنسی مناظِر پر مشتمل فُحش فلمیں بھی دیکھنے لگا تھا ۔قصہ مختصر !میں تقریباً 9سال تک تباہی کے اس راستے پر چلتا رہا ۔پھر ایک روز مجھے اپنے محلے دار اسلامی