مثلاً کوئی ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ تمہیں دل کا مرض ہے لہٰذاچکنائی والی چیزیں مثلاً پراٹھا ، سموسے ،پکوڑے وغیرہ کھانا بالکل تَرْک کردو ورنہ تمہاری تکلیف میں اِضافہ ہوجائے گا تو میں محض ایک ڈاکٹر کی بات پر اعتبار کرکے آئندہ نقصان سے بچنے کے لئے اپنی مَن پسند چیزوں کو ان کی تمام تَر لذت کے باوجود چھوڑ دیتا ہوں لیکن کیا بات ہے کہ میں ساری کائنات کے خالِق ومالک عَزَّوَجَلَّ کے وعدۂ عذاب کو سچا جانتے ہوئے اپنے نَفْس کی ناجائز خواہشات کو کیوں نہیں تَرْک کرتا !اس انداز سے غوروفِکْر کرنے کی بَرَکت سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم گناہوں کی بیماری سے شفا پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
گناہوں کی وجہ سے اپنا ہی نہیں دوسروں کا بھی نقصان ہوتا ہے
کئی گناہ ایسے بھی ہیں کہ جن کی وجہ سے براہ ِ راست دوسروں کونقصان اُٹھانا پڑتا ہے اور معاشرے میں بگاڑ بڑھتا چلاجاتا ہے ، مَثَلاًاگرکوئی شخص چوری کا گناہ کرے گا تو اُس شخص کا نقصان ہوگا جس کی چیز چُرائی جائے گی، بِالکل یِہی مُعاملہ ڈاکہ ڈالنے ،اَسلحہ(اَس۔لِ۔حَہ) دکھا کر موبائل فون وغیرہ چھین لینے والوں کا ہے۔ دُنیوی نقصانات تو ایک طرف رہے گناہ کرنے والے کا اَصل بڑا نقصان تو آخِرت کا ہے ۔
؎ گناہوں نے میری کمر توڑ ڈالی
مرا حشر میں ہوگا کیا یاالٰہی
(وسائل بخش، ص۸۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد