Brailvi Books

حرص
50 - 228
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقینا ہمارے نرم ونازُک جسم جہنم کا عذاب سیکنڈ کے کروڑویں حصے کے لئے بھی برداشت نہیں کرسکتے ،لہٰذا گناہوں کی حِرْص سے چھٹکارا پانے میں ہی عافیت وسلامتی ہے ۔
؎	گنہگار طلبگارِ عَفْوْ ورحْمت ہے
عذاب سہنے کا کس میں ہے حوصَلہ یا ربّ
(وسائل بخشش ص ۷۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ہم گناہوں میں کیوں مبتلاء ہوجاتے ہیں؟
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب گناہ ہماری آخرت کے لئے سخت نقصان دہ ہیں تو آخر کیا وجہ ہے کہ ہم پھر بھی گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ؟  شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انسان کو جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ فی الحال اس کی نگاہوں سے اوجھل ہے جبکہ اس کی نفسانی خواہشات کا نتیجہ فوری طور پر اس کے سامنے آجاتا ہے اور انسان کی فطرت ہے کہ یہ اُدھار کی جگہ نَقْد کو پسند کرتا ہے ، مثلاً زِناکرنے والے کی نظرزنا سے فوری طور پر حاصل ہونے والی ناپاک لذت پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ زنا کی اُخروی سزا سے غافِل ہوجاتا ہے۔لیکن  ہم میں سے ہر ایک کوغور کرنا چاہئے کہ یہ عذابات اگرچہ فوراً نہیں ملتے لیکن جب ملیں گے تو کیا میں برداشت کرپاؤں گا۔ کیا میں جہنم کے خوف کی وجہ سے گناہوں سے باز نہیں رہ سکتا !کتنے ہی دنیاوی فوائد ایسے ہیں جنہیں میں مستقبل میں ہونے والے نقصان کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہوں