ہے۔اگر جہنم کو سوئی کے ناکے کے برابر کھول دیا جائے تو تمام اہل ِ زمین اس کی گرمی سے مر جائیں ۔اگر جہنمیوں کو باندھنے والی ایک زنجیر کی ایک کَڑی دنیا کے کسی پہاڑ پر رکھ دی جائے تو وہ زمین میں دَھنس جائے۔جہنم میں اُونٹ کے برابر سانپ ہیں، ان میں سے اگر کوئی سانپ کسی کو کاٹ لے تو چالیس سال تک اس کا درد محسوس ہوتا رہے گا ۔ اس میں خچر کے برابر بچھو ہیں جو ایک مرتبہ کاٹ لیں تو چالیس برس تک تکلیف محسوس ہوتی رہے ۔جہنم کا ہلکاترین عذاب یہ ہے کہ انسان کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی،جس سے اس کا دماغ ہانڈی کی طرح کھولنے لگے گا ۔(اَ لْاَمَان وَالْحَفِیْظ)
سب تکلیفیں بھول جا ئے گا
جہنَّم کا صِرْف ایک جھونکا عمر بھر کی راحت سامانیوں کو بُھلا کر رکھ دے گا،چنانچہ تاجدارِ مدینہ قرارِ قِلْب وسینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے : قِیامت کے دن اس دوزخی کو لایا جائے گا جسے دنیا میں سب سے زیادہ نعمتیں ملیں اور اسے جہنَّم کاایک جھونکا دے کر پوچھا جائے گا :اے ابنِ آدم! کیا تو نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی تھی؟کیا تجھے کبھی کوئی نعمت ملی تھی؟ تو وہ کہے گا:’’خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! نہیں ۔‘‘ پھر اس جنتی کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف میں رہااوراُسے جنّت کی سیر کروائی جائے گی پھر اس سے پوچھا جائے گا :’’اے انسان! کیاتو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی تھی؟ تجھ پر کبھی کوئی سختی آئی تھی؟‘‘ تو وہ کہے گا :بخدا! اے میرے رب ! کبھی نہیں ، مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی اور نہ میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی ۔ (صحیح مسلم، ص۸۰۵۱حدیث۷۰۸۲ )