Brailvi Books

حرص
48 - 228
کتنی ہی مصیبتوں اور آزمائشوں میں تو مبتلا ہوا مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے ان سب سے نجات عطا فرمائی۔ اُس کے منع کرنے اور روکنے کے باوجود تو گناہوں میں ڈُوبا رہا۔ کیا تجھے موت کا خوف نہ تھا؟ تو عَقْل اور سمجھ رکھنے کے باوجود گناہوں پر ڈَٹا رہا! اورتجھ پر جواللہ عَزَّوَجَلَّکا فضل وکرم تھا اسے بھلا دیا ! اورکبھی بھی تجھ پر نہ کپکپی طاری ہوئی، نہ ہی کوئی خوف لاحق ہوا، کتنی مرتبہ تو نےاللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ عہد کیا لیکن پھر توڑ دیا۔‘‘ حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ الغفّار فرماتے ہیں: یہ سُننے کے بعد میں اس کی بے بسی پرآنسو بہاتا ہوا وہاں سے نکل آیا ،ابھی میں اپنے گھر کے دروازے تک بھی نہ پہنچا تھا کہ مجھے خبر ملی کہ اس کا اِنتقال ہوچکا ہے ۔(الروض الفائق ،المجلس الثانی،ص۷۱)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے رِیاکاری کی باطِنی بیماری اور چُھپ کر گناہ کرنے کی حِرْص نے بظاہر نیک وپارسا دکھائی دینے والے کو کیسے عبرت ناک اَنجام سے دوچار کیا! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بے نیازی سے لرز جائیے اور اس کے حضور گِڑْ گِڑا کر اِخلاص ومَغْفِرَت کی بھیک مانگ لیجئے ۔

؎	آج بنتا ہوں معزَّز جو کُھلے حَشْر میں عیب
آہ! رُسوائی کی آفت میں پھنسوں گا یا ربّ !
(وسائل بخشش ص ۱۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
گناہوں کا انجام جہنم ہے 
	گناہوں کی منزل جہنم ہے اور جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گُنا تیز