Brailvi Books

حرص
42 - 228
 کی حد توڑ ڈالنا، حُبِّ جاہ ، بخل ،خود پسندی جیسے مُعاملات ہمارے مُعاشَرے میں بڑی بے باکی کے ساتھ کئے جاتے ہیں ۔ 
نفس وشیطان ہوگئے غالب      ان کے چُنگل سے تُو چُھڑا یا ربّ
نِیم جاں کردیا گناہوں نے       مرضِ عِصیاں سے دے شِفا یاربّ
 (وسائلِ بخشش ، ص۷۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
نیک لوگ گناہوں سے ڈرتے ہیں
	اللہعَزَّوَجَلَّ کے نیک بندے گناہ سے بَہُت زیادہ ڈرتے ہیں مگر گناہوں کے عادی لو گ اِ س کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے جیسا کہ ’’بخاری شریف‘‘ میں فرمانِ مصطَفٰیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: مومِن اپنے گناہوں کو اس انداز سے دیکھ رہا ہوتا ہے گویا کہ وہ کسی پہاڑ تلے بیٹھا ہے اور اسے ڈر ہے کہ کہیں یہ پہاڑاِس کے اوپر نہ آگرے جبکہ فاسق و فاجِر کے نزدیک گناہوں کا مُعامَلہ ایسا ہے گویا کوئی مکّھی اس کی ناک پر بیٹھی اور اس نے ہاتھ کے اِشارے سے اُڑادی۔(بخاری ج۴ ص۰۹۱حدیث۸۰۳۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
گناہوں کی حرص سے بچنے کا نُسخہ 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!گناہوں کی حِرْص سے بچنابے حد ضروری ہے ، اس کے لئے سب سے پہلے گناہوں کی پہچان حاصل کیجئے ، پھر ان کے نقصانات