گناہوں کی حرص مذموم ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گناہ جہنَّم میں لے جانے والے اَعمال ہیں اور ان کی حِرْص مذموم ہوتی ہے مگرا فسوس صَدکروڑ افسوس! آج مسلمانوں کی بھاری اکثریَّت گناہوں کی حِرْص کا شکارہے ۔ مَساجِد، مَدارِس ،جامِعات،سنّتوں بھرے اِجتماعات اور دینی لائبریریوں میں آنے والوں کی تعداد بہت کم جبکہ سینماگھروں، ڈرامہ ہالوں اور نائٹ کلبوں جیسے گناہوں کے اَڈّوںمیں جانے والوں کی تعداد اِس سے کئی گُنا زیادہ ہے ۔ ٹی وی، وی سی آر ، ڈی وی ڈی پلیئر، ڈش اِنٹینا ، اِنٹر نیٹ اورکَیبل کاغَلَط استعمال عام ہے۔ نمازیں قَضا کرنا، فرض روزے چھوڑدینا،گالی دینا، تُہمت لگانا ، بدگمانی کرنا، غیبت کرنا، چُغلی کھانا ، لوگوں کے عیب جاننے کی جستجو میں رہنا ،لوگوں کے عیب اُچھالنا ، جھوٹ بولنا ، جھوٹے وعدے کرنا، کسی کا مال ناحق کھانا، خون بہانا، کسی کو بِلااجازت ِشَرعی تکلیف دینا ، قرض دبالینا، کسی کی چیز عارِیتاً (یعنی وقتی طور پر)لے کر واپَس نہ کرنا، مسلمانوں کو بُرے اَلقاب سے پکارنا، کسی کی چیز اُسے ناگوار گزرنے کے باوُجُود بِلااجازت استعمال کرنا، شراب پینا ، جُوا کھیلنا ، چوری کرنا ، زِنا کرنا ،فلمیں ڈرامے دیکھنا، گانے باجے سننا ، سُود ورِشوت کا لین دین کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنااور انہیں ستانا،اَمانت میں خِیانت کرنا، بدنگاہی کرنا،عورَتوں کا مَردوں کی اور مردوں کا عورَتوں کی مُشابَہَت(یعنی نقّالی) کرنا ، بے پردگی ،غُرُور، تکبُّر، حَسَد ، رِیا کاری ، اپنے دل میں کسی مسلمان کا بُغض وکینہ رکھنا، غصّہ آجانے پر شریعت