(۲۱) مَرَضُ الموت میں بھی ایثار
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی’’اِحْیاء الْعُلُوم ‘‘ میں نَقْل کرتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنابِشر بن حارِث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مَرَض الموت میں مُبتَلا تھے، کسی نے آ کر سُوال کیاتو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی قمیص اُتار کر اُسے دیدی، اپنے لئے اُدھار کپڑا حاصِل کیا اور اُسی میں اِنتِقال فرمایا۔( اِحیاءالْعُلُوم ج۳ ص۹۱۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۳۱)کام کرنے کی مشین
صدرُ الشَّریعہ ،بدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکو خدمتِ دین کی دُھن تھی ،چنانچہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا روزانہ کا جَدْوَل کچھ اِس طرح تھا کہ بعد نمازِ فَجر ضَروری وظائف وتلاوتِ قراٰن کے بعد گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پریس کا کام انجام دیتے۔پھر فوراً مدرَسہ جاکر تدریس فرماتے ۔ دوپَہَر کے کھانے کے بعد مُستَقِلًا کچھ دیر تک پھر پریس کا کام انجام دیتے۔ نماز ِظہر کے بعدعَصْر تک پھر مدرَسہ میں تعلیم دیتے ۔بعد نَمازِ عصر مغرِب تک اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی خدمت میں نشست فرماتے۔بعدِ مغرِب عشاء تک اور عشاء کے بعد سے بارہ بجے تک اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی خدمت میں فتوٰی نَویسی کا کام انجام دیتے ۔اسکے بعد گھر واپَسی ہوتی اور کچھ تحریری کام کرنے کے بعد تقریباً