دو بجے شب میں آرام فرماتے ۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے اخیر زمانۂ حیات تک یعنی کم وبیش دس برس تک روزمرَّہ کا یہی معمول رہا ۔حضرت ِصدرُ الشَّریعہ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی کی اس محنت ِشاقّہ وعَزم واِستقلال سے اُس دَور کے اکابِر علماء حیران تھے ۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے بھائی حضرت ننھے میاں مولانا محمد رضاخانعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الحنان فرماتے تھے کہ مولانا امجد علی کام کی مشین ہیں اور وہ بھی ایسی مشین جو کبھی فیل نہ ہو۔
مصنِّف بھی، مقرِّر بھی، فَقیہِ عصرِ حاضِر بھی
وہ اپنے آپ میں تھا اک اِدارہ علم و حکمت کا
(تذکرۂ صدر الشریعہ،ص۶۱)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ہماری کیا حالتِ ہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے ملاحظہ کیا کہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین کونیکیاں کمانے کی کیسی حِرْص ہوتی تھی اور وہ اس کے لئے کیسی کیسی مَشَقَّتیں و تکلیفیں اٹھایا کرتے تھے اور ایک ہم ہیں کہ نفلی عبادتوں کی حِرْص رکھنا دَرکنار فرائض کی بھی پابندی نہیں کرپاتے ۔ اللہعَزَّوَجَلَّ ہمیں فرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ