Brailvi Books

حرص
34 - 228
 ان کی قَبْرشریف کی مِٹّی سے مُشک کی خوشبو آتی تھی۔ کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا،  مَاصُنِعْتَ؟یعنی آپ کے ساتھ کیا مُعَاملہ فرمایا گیا؟کہا،’’اچھا معاملہ فرمایا گیا۔‘‘پوچھا:آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ   کو کہاں لے جایا گیا؟کہا،’’جنّت میں۔‘‘ پوچھا، ’’کون سے عمل کے باعِث ؟‘‘ فرمایا،’’ایمانِ کامِل ،تہجُّد اور گرمیوں کے روزوں کے سبب۔ ‘‘پھر پوچھا ،’’آپ کی قَبْرسے مُشک کی خوشبو کیوں آرہی ہے؟‘‘تو جواب دیا : ’’یہ میری تِلاوت اور رَوزوں میں پیاس کی خوشبو ہے۔‘‘(حِلیَۃُ الاَوْلِیاء، ج۶ص۶۶۲حدیث۳۵۵۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۹) بخار میں بھی روزہ نہ چھوڑا 
	شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:ایک باررَمَضانُ المبارَک میں صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکو سخت سردی کا بخار چڑھ گیا۔اس میں خُوب ٹھنڈ لگتی اور شدید بخار چڑھتا ہے نیز پیاس اتنی شدّت سے لگتی ہے کہ نا قابلِ برداشت ہوجاتی ہے ۔ تقریباً ایک ہفتہ تک اِس بخار میں گرفتار رہے۔ظہر کے بعد خُوب سردی چڑھتی پھر بخار آجاتا مگر قربان جایئے! اس حال میںبھی کوئی روزہ نہیں چھوڑا۔(تذکرۂ صدر الشریعہ،ص۲۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد