(۶) جوانی نے ساتھ چھوڑ دیا مگر نوافل نہ چھوڑے
حضرت سَیِّدُنا جُنید بَغدادی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی جب بُڑھاپے کو پہنچے تو لوگوں نے عرض کی: حضور! آپ ضعیف ہوگئے ہیں، لہٰذا بعض عباداتِ نافلہ تَرْک فرما دیجئے۔آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: یہی تو وہ چیزیں ہیں جن کو اِبتدا میں کرکے اِس مرتبے کو پایا ہے، اب یہ کیسے ممکن ہے کہ اِنتہا پر پہنچ کر ان کو چھوڑ دوں! (کشف المحجوب،کشف الحجاب الخامس فی الصلٰوۃ،ص۲۳۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۷) نماز کے وقت اُٹھ کھڑے ہوتے
حضرت سَیِّدُنا سہل بن عبداللہرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اس قدر کمزور ہوگئے تھے کہ اپنی جگہ سے اُٹھ نہیں سکتے تھے مگر جب نماز کا وقت آتا تو شوقِ نماز کی بدولت ان کی قوت لَوٹ آتی اور وہ لوہے کی سلاخ کی طرح سیدھے کھڑے ہوجاتے اور جب نماز سے فارِغ ہوتے تو پھر سے پہلی کمزوری کی حالت میں آجاتے اور اپنی جگہ سے اُٹھ نہ سکتے تھے ۔(کتاب اللمع فی التصوف(مترجم)،ص۷۳۲ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۸) روزہ کی خوشبو
حضرتِ سَیِّدُناامام قَتادہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وغیرہ کے اُستاذِحدیث حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن غالِب حَدّانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّباّنی شہید کردیئے گئے ۔ تدفین کے بعد