Brailvi Books

حرص
32 - 228
 آخری عمر میں کمزور ہوگئے توروزانہ500 رکعتیں پڑھا کرتے تھے،اس پر بھی یہ فرماتے: افسوس!میں نے آدھی عبادت کم کر دی!  (تنبیہ المغترین،الباب الثانی ،ص۸۳۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۵)  عبا دت کیلئے جاگنے کا عجیب انداز
	حضرتِسیِّدُنا صَفْوان بن سُلَیم  علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الکریمکی پنڈلیاں نماز میں زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے سُوج گئی تھیں ۔آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہاس قدر کثرت سے عبادت کیا کرتے تھے کہ بِالفرض آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہسے کہہ دیا جاتا کہ کل قِیامت ہے تو بھی اپنی عبادت میں کچھ اِضافہ نہ کر سکتے(یعنی ان کے پاس عبادت میں اضافہ کرنے کے لئے وقت کی گنجائش ہی نہ تھی)۔ جب سردی کا موسم آتا تو آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ مکان کی چھت پر سویا کرتے تاکہ سردی آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو جگائے رکھے اورجب گرمیوں کا موسمآتا تو کمرے کے اندر آرام فرماتے تاکہ گرمی اورتکلیف کے سبب سونہ سکیں(کیونکہ A.C.کُجا اُن دنوں بجلی کا پنکھا بھی نہ ہوتا تھا!)۔سجدہ کی حالت میں ہی آپ کا اِنتقال ہوا۔ آپ دعا کیا کرتے تھے: یا اللہعَزَّوَجَلَّ ! میں تیری ملاقات کو پسند کرتا ہوں تُوبھی میری ملاقات کو پسند فرما ۔ 
(اتحاف السادۃ المتقین بشرح احیاء علوم الدین ج۳۱ ص۷۴۲،۸۴۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد