حضرت ِسیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ کے گھر میں گُھسے تو وہ اتنے پُر خَطر حالات میں بھی قرآن شریف کھولے ہوئے یہی رُکوع پڑھ رہے تھے ایک شَقِی (یعنی بدبخت) نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ کے ہاتھ پر تلوار ماری جس سے خون نکل کر اُسی لفظ پر پڑا، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ قرآن پاک کو صاف کرتے تھے اور فرماتے تھے :’’ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! سب سے پہلے اِسی ہاتھ سے قرآن لکھا ہے۔‘‘ ان مِصْریوںمیں سے سب بُرے حال پر مَرے،کچھ ہی عرصہ کے بعد لوگوں نے اُس قرآن پاک کی زِیارت کی اور اس پر خون کا اثر دیکھا ۔(درمنثور۱/۰۴۳)(تفسیر نعیمی۵۸۶/۱)
واسِطہ نبیوں کے سَرْوَر کا واسِطہ صِدِّیق اور عُمَر کا
واسِطہ عثمان وحیدر کا یا اللہ مِری جھولی بھر دے
اللہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۴) افسوس ! میں نے آدھی عبادت کم کردی
حضرت سَیِّدُنا کَہْمَس بن حسنرحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ روزانہ ایک ہزارنوافِل پڑھتے تھے ،جب فارِغ ہوتے تو چلنے کی سَکت باقی نہ رہتی تھی۔ اس کے بعد بھی قَناعت سے کام نہ لیتے تھے بلکہ عاجِزی کرتے ہوئے اپنے نَفْس سے فرماتے: اے ہربرائی کے مرکز! اب دوسری عبادت کے لئے اُٹھ۔جب آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ