نہایت مُتَّقی وپارسا صِدِّیقِ اکبر ہیں تَقی ہیں بلکہ شاہِ اَتْقِیا صِدِّیقِ اکبر ہیں
امیرُ المؤمنیں ہیں آپ امامُ المسلمیں ہیں آپ نبی نے جنّتی جن کو کہا صِدِّیقِ اکبر ہیں
(وسائلِ بخشش ص۴۹۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲) زخمی حالت میں بھی نمازادافرمائی
امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرضی اﷲ تعالٰی عنہ پرنمازِ فجر سے پہلے خنجر سے قاتِلانہ حملہ کیا گیا ، مگرآپ شدید زخمی ہونے کے باوجود اپنی زندگی کے آخری سانس تک نَماز کا اِہتمام کرتے رہے ،چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا مِسْوَرْ بِن مَخْرَمَہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرضی اﷲ تعالٰی عنہ کو نیزے سے زخمی کیا گیا تو میں اور ابنِ عباس (رضی اﷲ تعالٰی عنہما) حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرضی اﷲ تعالٰی عنہکی خدمت میں حاضر ہوئے ،ان پر کپڑا ڈالا ہوا تھا ، ہم نے کہا: یہ نمازکے نام پر جتنی جلدی اٹھیں گے کسی اور چیزکے نام سے نہیں ا ٹھیں گے ، چنانچہ ہم نے عَرْض کی:یاامیرَالْمُؤمِنِین! نماز !! یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ اُٹھے اور فرمایا : اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !جو نماز تَرْک کرے اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ۔ پھر آپ رضی اﷲ تعالٰی عنہنے زخمی حالت میں بھی نماز اداکی ۔(مصنف ابن ابی شیبہ، ج۸،ص۹۷۵،حدیث۲۱)