ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ ان نفوسِ قُدسیہ کواپنی آخرت سنوارنے کی دُھن ہوتی تھی اور یہ اس کے لئے بہت زیادہ کوششیں فرمایا کرتے تھے ۔ اگر ہم ان کے حالات زندگی تفصیل سے پڑھیں تو ہمیں بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ یہ حضراتِ کرام نیکیوں کی کس قدر حِرْص رکھتے تھے!اور فرائض وواجبات کی پابندی کے ساتھ ساتھ نفلی عبادتوں کے لئے بھی ان کا ذوق مثالی اور قابلِ رشک ہوا کرتا تھا ۔بطورِ ترغیب 13 منتخب حکایات ملاحظہ کیجئے ، چنانچہ
(۱) صِدِّیقِ اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ کا شوقِ عبادت
حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہسرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت فرمایا: آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا؟تو حضرتِ سیِّدُناصِدِّیقِ اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عَرْض کی : میں نے ۔پھرپوچھا:آج تم میں سے کس نے جنازے میں شرکت کی ؟ توآپ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عَرْض کی :میں نے۔ دریافت فرمایا:آج تم میں سے کس نے مِسکین کو کھاناکھلایا ؟ آپ رضی اﷲ تعالٰی عنہنے عَرْض کی: میں نے۔ اِرشاد فرمایا: آج تم میں سے کس نے مریض کی عیادت کی؟ آپ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عَرْض کی : ’’میں نے۔‘‘توبحرو بَر کے بادشاہ ، دو عالَم کے شَہَنشاہ ، اُمّت کے خیر خواہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشادفرمایا: جس کسی میں یہ خَصلتیں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخِل ہوگا۔ (صحیح مسلم ،ص۳۱۵حدیث۸۲۰۱)