رَمَضَان شریف کا مہینہ تشریف لے گیا تو باجماعت نمازوں کا جذبہ کچھ کم ہوگیا ۔ ایک دن ظہر کے وقت نفس کی پکار پر میں نے سوچا کہ آج مسجد کے بجائے فیکٹری ہی میں نماز پڑھ لیتاہوں مگر کوئی رُوحانی قوت مجھے مسجد کی جانب کھینچ رہی تھی ، چنانچہ میں نماز ادا کرنے کے لئے مسجد بیلہ انجینئرنگ پہنچ گیا۔وہاں پر میں نے بہت سے عمامے اور داڑھی والوں کو دیکھا تو دل ہی دل میں اُن کا مذاق اڑانے لگا ۔مگر نہ جانے اُن میں کیا کشش تھی کہ کچھ ہی دیر میں میری حالت ایسی ہوگئی کہ میں بار بار انہی کی طرف دیکھنے لگا ، ان کی داڑھی اور عمامہ اب مجھے اچھا لگنے لگا۔جماعت کا وقت ہوا تو امام صاحب نے امامت کے لئے اُنہی عمامے والوں میں سے ایک کو آگے کردیا ۔ نماز کے بعد اعلان ہوا کہ ’’ نماز کے بعد تشریف رکھیں ،ہم سنتیں سیکھیں گے اور سنت پر بیان ہو گا۔‘‘ کچھ اسی طرح کے الفاظ تھے۔ان کی دعوت میں بڑی مٹھاس تھی جس کی حلاوت سے میں پہلی بار آشنا ہوا تھا۔ بقیہ نماز کے بعد نفس نے مجھے بھاگ نکلنے کا مشورہ دیا مگر میں نے دیکھاکہ دو عمامے والے وہاں سے جانے والوں کو محبت وشفقت سے بیان میں بیٹھنے کی درخواست کر رہے ہیں تو میںنے اٹھنے کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیااور وہیں بیٹھ گیا ۔ایک عمامے والے نے جن کا چہرہ بڑا نُورانی تھا ، بیان فرمایا ۔ ان کی ایک بات میرے دل پر چوٹ کر گئی کہ ’’ اپنے سر سے لیکر پاؤں تک دیکھیں کہ ہم عملی طور پر کیسے مسلمان ہیں کہ چہرہ یہودیوں جیسا اور لباس عیسائیوں جیسا ! اگرمَدَنی آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بروزِ محشر ہمیں چھوڑ دیا تو ہم کیا کریں گے!‘‘ بیان کے بعد اُس مبلغ نے مسلسل چار جمعرات جامع