مسجد گلزار حبیب گلستانِ اوکاڑوی باب المدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہونے کی نیتیں کروائیں تو میں نے بھی ہاتھ اٹھا دیا ۔بیان کے بعد ملاقات کی تومعلوم ہوا کہ وہ مبلغ ہمارے میٹھے میٹھے امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دَامَت بَرَکاتُہُم الْعَالِیہ تھے ۔
اب میں بے چینی سے جمعرات کا انتظار کرنے لگا ۔جمعرات کواجتماع میں پہنچا ، بیان سنا، دعا میں شرکت کی اور ہمیشہ کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں رہنے کی نیت کی۔ گاناگانے اور دیگر گناہوں سے توبہ کرلی ۔پھر وہ گھڑی بھی آئی جب میری امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُم الْعَالِیہ سے دوبارہ مُلاقات ہوئی ۔ میں نے جب آپ دَامَت بَرَکاتُہُم الْعَالِیہکو بتایا کہ ’’حضور! میں آپ کاچوکی مسجد بیلہ والا بیان سن کر یہاں آیا ہوں۔‘‘ تو آپ دَامَت بَرَکاتُہُم الْعَالِیہنے اس قدر شفقت دی کہ میں دل وجان سے فریفتہ ہوا جارہا تھا ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلََّّ میںامیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُم الْعَالِیہ کی غلامی اختیار کر کے عطّاری بھی ہوگیا کہ یہی وہ ہستی ہیں جنہوں نے مجھے صحیح العقیدہ سُنّی بنا دیا ، مجھے عشقِ مصطفٰی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ایسے جام پلادئیے کہ آج تک ان کی لذت باقی ہے ، اور سنتوں کی خدمت کا ایسا درس دیا کہ مجھے اپنی ۷۲ ویں شبِ رمضان کی دُعا کا حاصل مل گیا۔ الحمدللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی غلامی کے صدقے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرنے کی سعادت اور اس پر اِستقامت نصیب ہوئی ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد