آخِرت کی آماجگاہ بنانے کیلئے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے، مَدَنی اِنعامات کے مطابِق زندگی گزارئیے اورسُنَّتوں کی تربیت کے مَدَنی قافِلوں کے مسافِر بنتے رہئے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّدونوں جہاں میں بیڑا پار ہوگا۔آپ کی ترغیب و تَحریص کیلئے ایک مَدَنی بہار پیش کی جاتی ہے چُنانچِہ
منزل مل گئی
نواب شاہ (بابُ الاسلام سندھ)کے ایک ذمّہ دار اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں روزگار کے سلسلے میں کراچی میں مقیم تھا ۔میں فیشن زدہ اور اسٹیج پر گانے کا شوقین تھا ۔ رمضان المبارک کا مُبارک مہینہ تشریف لایا تو میں نے بھی نمازوں کی پابندی شروع کردی ۔ دل عمل کی طرف مزیدمائل ہوا مگر میرے ساتھ پریشانی یہ تھی کہ میں کسی مکتبِ فکر سے سوفیصد مطمئن نہیں تھا ، لوگوں کے ایک مخصوص طبقے کی طرح میرا بھی یہی خیال تھا کہ مذہبی لوگوں سے دُور ہی رہنا چاہئے کہ ہر گروہ خُود کو صحیح اور دُوسرے کو غلط کہتا ہے ۔بالآخر مجھے دعوتِ اسلامی کے صدقے مذہبِ مہذب اہلسنّت کے حق ہونے کا یقینِ کامل ہوگیا ۔ جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ 27ویں رمضان کی مقدس رات تھی ،میں نے بھی چوکی مسجد بیلہ انجینئرنگ میں شب بیداری کی اور بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں رو رو کر دُعا کی: ’’یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اپنے نیک بندوں کے قریب کر دے ،مجھے اہلِ حق سے ملا دے ،سیدھا راستہ دکھا دے۔‘‘ مجھ پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ میں سحری بھی نہ کر سکا اور بغیر سحری کے روزہ رکھا۔