Brailvi Books

حرص
223 - 228
 گا، باقی رہا اس کا اپنے مال کی زکوۃ لے کر پیش ہونا وہ اس خوف سے تھاکہ وہ اس سے زبردستی وصول نہ کریں۔ (شعب الایمان،الباب الثانی والثلاثون ، الحدیث:۷۵۳۴ ،ج۴، ص۹۷ ملتقطاً)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایسے کئی اسلامی بھائی ہوں گے جو یہ سوچ کر مال کمانے میں اپنے دن رات صرف کرتے ہوں گے کہ ہم مالدار بننے کے بعد غریبوں کی مدد کریں گے ، راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں خوب خوب خرچ کیا کریں گے وغیرہ وغیرہ مگر جونہی مال کی آمد شروع ہوئی سب ارادے بھول بھال کر عیش کوشیوں کی راہ پر چل پڑے اور مال سے اتنا دل لگا لیا کہ زکوٰۃ وفطرہ وغیرہ ادا کرنے سے بھی کترانے لگے ، مولاکریم ایسوں کے حال پر رحم فرمائے اور انہیں مال کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اگر آپ سُد ھرنا چاہتے ہیں تو …
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ سے مَدَنی اِلتِجا ہے کہ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول اپنا لیجئے کہ یہ ماحول خزانوں کا اَنبار اِکٹھّے کرنے کے بجائے اَبدی سعادَتوں کا حقدار بننے کا ذِہن دیتا ہے،لہٰذا اگر آپ سُدھرنا چاہتے ہیں تو دل سے دُنیا کی بے جا مَحَبَّتنکالنے، رِضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ حاصل کرنے کی تڑپ قلب میں ڈالنے، سینہ سنّتِ مصطَفٰیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مدینہ بنانے،مال ودولت کو صحیح مَصرَف(یعنی خرچ کی دُرُست جگہ)میں اِستِعمال کرنے کاعلْم پانے اور دل کو فکرِ