Brailvi Books

حرص
222 - 228
	 جب قرآن کی یہ آیات نازل ہوئیں تو ثعلبہ اپنی زکوۃ و صدقات لے کر حضور صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آیا مگر آپ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ لینے سے انکار کردیا۔جب سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ظاہری وصال فرمایا تو وہ اپنا صدقہ لے کر امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے پاس آیا انہوں نے بھی لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ جو مال سرکار صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم نے نہیں لیا میں بھی نہیں لوں گا۔ جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا وصال ہوگیا توو ہ مالِ زکوٰۃ لے کر امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے پاس آیا انہوں نے بھی لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ جو مال حضور صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم نے نہیں لیا اور امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے نہیں لیا میں بھی نہیں لوں گا۔
	شیخ ابو بکر احمد بن حسین بیہقی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم نے زکوٰۃ نہ لی اور امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق وامیر المؤمنین حضرت سیدنا عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہما نے آپ کی سنت پر عمل کیا اس لیے کہ وہ منافق تھا اور وہ آیت جو اس کے بارے میں کتابُاللّٰہ میں نازل ہوئی وہ اس بات کی دلیل ہے اور اسی پر ناطِق ہے وہ یہ ہے: 
فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللہَ مَا وَعَدُوۡہُ وَبِمَا کَانُوۡا یَکْذِبُوۡنَ ﴿۷۷﴾  (پ۰۱،التوبۃ:۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اس کے پیچھے اللّٰہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللّٰہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے۔
	اسی آیت سے انھوں نے جان لیا تھا کہ اب وہ موت تک نفاق پر قائم رہے