لوگوں سے لے آئیں جب واپس جانے لگیں تو میری طرف آئیں۔وہ لوگ جب فارغ ہو کر پہنچے تو اس نے کہا: اللّٰہکی قسم! یہ مال دینا تو جزیہ(ٹیکس) ہی ہے۔ وہ یہ سن کر اس سے مالِ زکوۃ وصول کئے بغیر ہی لوٹ گئے، انہوں نے حضور صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کو جو کچھ اس نے کہا تھا بتایا۔ اللّٰہ عزوجل نے یہ آیاتِ مبارکہ نازل فرمائیں: وَمِنْہُمۡ مَّنْ عٰہَدَ اللہَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ﴿۷۵﴾ فَلَمَّاۤ اٰتٰىہُمۡ مِّنۡ فَضْلِہٖ بَخِلُوۡا بِہٖ وَتَوَلَّوۡا وَّہُم مُّعْرِضُوۡنَ ﴿۷۶﴾فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللہَ مَا وَعَدُوۡہُ وَبِمَا کَانُوۡا یَکْذِبُوۡنَ ﴿۷۷﴾ (پ۰۱،التوبۃ:۵۷۔۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللّٰہ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سے دے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے تو جب اللّٰہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اس میں بخل کرنے لگے اور منہ پھیر کر پلٹ گئے تو اس کے پیچھے اللّٰہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللّٰہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے۔