(۹)مال کی حرص نے تباہ کردیا
حضرت سیدنا ابو امامہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ثَعْلَبَہ نامی شخص ، جناب رحمتِ عالمیان ،مکّی مَدَنی سلطان، سرورِ ذیشان صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: یارسول اللّٰہ! صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم آپ اللّٰہ عزوجل سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: اے ثعلبہ! قلیل مال جس کا تو شکر ادا کرے اس کثیر مال سے بہتر ہے جس کا تو شکر ادا نہ کرے۔ کہنے لگا: یارسول اللّٰہ! صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم نہیں بس آپ اللّٰہ عزوجل سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے،اللّٰہکی قسم! اگر اس نے مجھے مال دے دیا تو میں ضرور صدقہ کروں گا، اور میں یہ کروں گا وہ کروں گا، سرکار صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم نے دعا فرمائی:یااللّٰہ! عزوجل ثعلبہ کو مال عطا کر۔(راوی کہتے ہیں کہ) اللّٰہ عزوجل نے اس کو بکریاں عطا کردیں وہ سرکار صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کے پاس حاضری دیتا تھا جب بکریاں زیادہ ہوگئیں تو وہ مدینہ سے چلا گیا پھر وہ صرف مغرب اور عشاء میں حضورِ اکرم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آتا تھا، جب بکریاں اور بڑھ گئیں تو پھر وہ صرف جمعہ میں حضورِ اکرم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلمکے پاس آتا تھا، جب بکریاں مزید بڑھ گئیں تو اس نے جمعہ کے دن آنا بھی چھوڑ دیا، پھر نبی کریم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم نے کچھ لوگ بھیجے کہ اس سے صدقہ یعنی زکوۃ وصول کر آئیں وہ جب پہنچے تو اس نے ان سے ٹال مٹول کی اور کہا کہ پہلے اور