(۶) شیخ چلّی کی حکایت
شیخ چِلّی کو طرح طرح کے خواب دیکھنے کی بہت عادت تھی ، ایک دن وہ اپنے گہرے خوابوں میں کھویا ہوا تھا کہ اسے ایک آواز سنائی دی: بھائی!یہ انڈوں کا ٹوکرا میرے گھر تک چھوڑ آؤ تو تمہیں ایک انڈہ دوں گا۔شیخ چلی نے فورا حامی بھرلی۔ انڈوں کا ٹوکرا سر پر رکھا اور اس شخص کے پیچھے پیچھے اس کے گھر کی طرف چل پڑا ۔ راستے میں اس نے جاگتی آنکھوں سے لالچ بھرا خواب دیکھنا شروع کردیا اور سوچنے لگا کہ جب یہ آدمی مجھے ایک انڈہ دے گا تو میں اسے پڑوسیوں کی مرغی کے نیچے رکھوں گا تو اس سے ایک عدد چوزہ نکل آئے گا۔ میں اسے دانہ دُنکا ڈال کر بڑا کروں گا تو وہ بڑی مرغی بن جائے گی۔ پھر وہ روزانہ ایک انڈہ دیا کرے گی پھر میں ان سے بچے نکلواؤں گا۔ جب وہ بچے بڑے ہو کر مرغیاں بنیں گے تو پھر وہ روزانہ ڈھیر سارے انڈے دیں گے ،یوں پھر ان سے بچے نکلیں گے اور آگے مزید انڈے اور مرغیاں بنتی جائیں گی۔اسی طرح کرتے کرتے جب میں ایک بہت بڑے مرغی خانے کا مالک بن جاؤں گا توآدھی مرغیاں بیچ کر ایک بکری لے لوں گا۔پھر وہ بکری بھی اسی طرح بچے دیتی رہے گی اور پھر اس کے بچے آگے بچے دیتے رہیں گے، اس طرح میں ایک بہت بڑے ریوڑ کا مالک بن جاؤں گا۔پھر اس آدھے ریوڑ کو بیچ کر میں کافی ساری گائیں لے لوں گا، اسی طرح جب گائیں اور بیلوں کا ایک بہت بڑا ریوڑ ہو جائے گا تو اس میں سے آدھے کو بیچ کر میں بھینسیں لے لوں گا۔ ان کا دودھ