بس ہاتھ اندر بڑھانے ہی کی دیر تھی لیکن پھر میری ہمّت جواب دینے لگی، خوف و دَہشت کے سبب میرا سارا وُجود تَھرتَھر کانپنے لگا ،طرح طرح کے ڈراؤنے خیالات نے مجھ پر غَلَبہ پانا شُروع کیا، ضمیربھی چِلّا چِلّا کر کہہ رہا تھا کہ لَوٹ چلو اور مالِ حرام سے اپنی عاقِبت کو برباد مَت کرو لیکن بِالآخِر حِرص و طمع غالِب آئی اور مالدار ہوجانے کے سُنہرے خواب نے ایک بار پھر ڈھارس بندھائی کہ اب تھوڑی سی ہمّت کرلو منزلِ مُراد ہاتھ میں ہے۔ آہ! دولت کے نشے نے مجھے انجام سے بالکل غافِل کردیا اور میں نے اپنا سیدھا ہاتھقَبْر کے شِگاف میں داخل کردیا! ابھی بوری ٹَٹَول ہی رہا تھا کہ میرے ہاتھ میں اَنگارا آگیا۔ دَرْد وکَرْب سے میرے مُنہ سے ایک زوردار چیخ نکل گئی اور قبرِستان کے بھیانک سنّاٹے میں گم ہوگئی، میں نے ایک دَم اپنا ہاتھقَبْر سے باہَر نکالا اور سرپر پاؤں رکھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ میرا ہاتھ بُری طرح جُھلَس چکا تھا اور مجھے سخت جَلن ہورہی تھی، میں نے خوب رو رو کر بارگاہِ خُداوندی عزوجلَّ میں توبہ کی لیکن میرے ہاتھ کی جلن نہ گئی۔ اب تک بے شُمار ڈاکٹروں اور حکیموں سے علاج بھی کراچکا ہوں مگر ہاتھ کی جلن نہیں جاتی۔ ہاں اُنگلیاں پانی میںڈَبونے سے کچھ آرام ملتا ہے۔ اسی لیے ہر وَقت اپنا دایاں ہاتھ پانی میں رکھتا ہوں۔
اُس شخص کی یہ رِقّت انگیز داستان سُن کر میرا دل ایک دم دُنیا سے اُچاٹ ہوگیا۔ دنیاکی دولت سے مجھے نفرت ہوگئی اور بے ساختہ قرآن عظیم کی یہ آیات مجھے یاد آگئیں: