Brailvi Books

حرص
211 - 228
 آگئی کہ میں اچھّا خاصا مَقروض ہوگیا۔ قرض خواہوں کے تقاضوں نے میرے ناک میں دم کردیا، ادائے قرض کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی تھی۔ایک دن اچانک مجھے اپنا وُہی پُرانا یار پُر اَسرار بھکاری یادآگیا اور مجھے اپنی نادانی پر رَہ رَہ کر افسوس ہونے لگا کہ میں نے اُس کی وصیَّت پر عمل کر کے اتنی ساری رقم اس کے ساتھ کیوں دَفن کردی۔ یقینامرنے کے بعد اُسے قَبْر میں اس کے مال نے کوئی نَفع نہ دینا تھا، اگر میں اُس مال کو رکھ لیتا توآج ضَرور مالدار ہوتا۔ مزید شیطان نے مجھے مشورے دینے شروع کیے کہ اب بھی کیا گیا ہے۔ وہاں قَبْر میں اب بھی وہ دولت سلامت ہوگی۔ میں نے کسی پر ابھی تک یہ راز ظاہِر کیا ہی نہیں ہے، حِیلہ کر کے میں نے تو بوریاں دَفن کی ہیں، وہ اب بھی قَبْر میں موجود ہوں گی۔ شیطان کے اِس مشورے نے مجھ میں کچھ ڈھارس پیدا کی اورمیں نے عزْ م کرلیا کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے میں وہ نوٹوں کی بوریاں ضَرور حاصِل کر کے رہوں گا۔ 
	 ایک رات ُکدال وغیرہ لے کر میں قَبْرِستان پہنچ ہی گیا۔ میں اب اُس کی قَبْر کے پاس کھڑا تھا، ہر طرف ہولناک سنّاٹا اور خوفناک خاموشی چھائی ہوئی تھی، میرا دل کسی نامعلوم خوف کے سبب زور زور سے دَھڑک رہا تھا اور میں پسینے میں شرابُور ہورہا تھا۔ آخرِ کار ساری ہمّت جَمْع کر کے میں نے اُس کی قَبْر پر کُدال چلا ہی دی۔ دو۲  تین  ۳  کُدال چلانے کے بعد میرا خوف تقریباً جاتا رہا، تھوڑی دیر کی محنت کے بعد میں اُس میں ایک مُناسِب سا شِگاف کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اب