چند گڈِّیا ں تو اُٹھا کر لاؤ کہ انہیں تھوڑا پیار کرلوں!! میں نے بوری میں سے چند گڈِّیاں نکال کر اس کی طر ف بڑھادیں، اُس کی آنکھوں میں ایک دَم چمک آگئی اوراس نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے انہیں لے لیا اور اپنے سینے پر رکھ دیا اور باری باری چومنے لگا، ہر ایک گڈِّی کو چومتا اور آنکھوں سے لگا تا جاتا اور کہتا جاتا کہ میری وصیّت خاص وصیّت ہے اور اس کو تمہیں پُورا کرنا ہی پڑے گا اور وہ یہ ہے کہ میری زِندَگی بھر کی پُونجی یعنی چاروں نوٹوں کی بوریوں کو تمہیں کسی طرح بھی میرے ساتھ دَفن کرنا ہوگا۔ میں نے وعدہ کرلیا۔ وہ نہایت حسرت کے ساتھ نوٹوں کو چوم رہا تھا کہ اچانک اس کے حَلق سے ایک خوفناک چیخ نکل کر فَضا کی پہنائیوں میں گُم ہوگئی،میں خوف کے مارے تَھرتَھر کانپنے لگا، اُس کا نوٹو ں والا ہاتھ چار پائی کے نیچے کی طر ف لٹک گیا،نوٹ ہاتھ سے گِر پڑے۔ اور سَر دُوسری طرف ڈَھلَک گیا اور اُس کی رُو ح قَفَسِ عُنصُری سے پرواز کر گئی۔
میں نے جلدہی اپنے آپ پر قابو پالیا اور اس کے سینے وغیرہ سے اور نیچے سے بھی نوٹ اکٹھے کر کے اس بوری میں واپس ڈال دیئے۔ بوری کا مُنہ اچھّی طرح بند کر کے چاروں بوریاں حسبِ سابِق چیتھڑوں میں چُھپا دِیں۔ پھر چند آدمیوں کو ساتھ لے کر اس کی تکفین کی اور کسی بھی حِیلے سے بڑی سی قَبْر کُھدوا کر حسب ِوصیَّت وہ چاروں بوریاں اُس کے ساتھ ہی دَفْن کردیں۔
کچھ عَرصے بعد مجھے کاروبار میں خَسارہ شروع ہوگیا اور نوبت یہاں تک