سے سَخْت نفرت تھی۔ اس سلسلے میںاکثر ہماری لڑائی ٹھنی رہتی۔ رَفتہ رَفتہ بچّے جوان ہوئے میں نے اُن کو اعلیٰ دَرَجے کی تعلیم دِلوائی تھی۔ اُن کو بڑی بڑی مُلازَمتیں مِل گئیں۔ اب وہ بھی مُجھ پر خفا ہونے لگے۔ اُن کا پَیہَم اِصرار تھا کہ میں بھیک مانگنا چھوڑ دُوں لیکن میں عا دت سے مجبور تھا، مجھے دولت سے بے حد پیار تھا اوربِغیر محنت کے آتی ہوئی دولت کو میں چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ آخرِ کار ہمارا اِختِلاف بڑھتا گیا اور میں نے بیوی بچّوں کو خیر باد کہہ کر اِس ویرانے میں جَھونپڑی باندھ لی۔‘‘
اتنا کہنے کے بعد اُس نے چیتھڑوں کے ایک ڈَھیر کی طرف جو جھونپڑی کے ایک کونے میں تھا اِشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سے چِیتھڑے ہٹاؤ اس کے نیچے تمہیں چار بور یاں نظر آئیں گی اُن میں سے ایک بو ری کا مُنہ کھول دو۔ چُنانچِہ میں نے ایسا ہی کیا۔ میں نے جُو نہی بوری کا مُنہ کھولا تو میری آنکھیں پَھٹی کی پَھٹی رَہ گئیں اِس پُوری بوری میں نوٹو ں کی گَڈّیاں تِہ درتِہ رکھی ہوئی تھیں اور یہ ایک اچھّی خاصی رقم تھی۔ اب وہ بِھکاری مجھے بڑا پُر اَسرارلگ رہا تھا۔ کہنے لگا:یہ چاروں بوریاں اِسی طر ح نوٹو ں سے بھری ہوئی ہیں۔ میرے بھائی! دیکھو میں نے تم پر اعتِماد کر کے اپنا سارا راز فاش کر دیا ہے اب تم کو میری وصیَّت پر عمل کرنا ہو گا، کرو گے نا! میں نے حامی بھر لی تو کہا: دیکھو! میں نے اس دولت سے بڑاپیار کیا ہے، اِسی کی خاطِر اپنا بھرا گھر اُجاڑا،نہ کبھی اچھّا کھایا، نہ عمدہ لباس پہنا، بس اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا رہا۔۔۔۔ پھر تھوڑا رُک کر کہا، ذرا نوٹوں کی