Brailvi Books

حرص
21 - 228
کوئی نیکی چھوڑنی نہیں چاہئے
	نیکیاں دو قسم کی ہوتی ہیں : پہلی وہ جن کا کرنا ہم پر فرض یا واجب ہوتا ہے جیسے نماز ،روزہ وغیرہ ، ان کی ادائیگی پر ثواب اور عدمِ ادائیگی پر  عتاب وعِقاب(یعنی مَلامت کرنے کے ساتھ ساتھ سزابھی)   ہے اور دوسری وہ نیکیاں جومُسْتَحَبَّات کے درجے میں ہیں جیسے نوافِل اور تلاوتِ قراٰن وغیرہ یعنی اگر کریں تو ثواب اور نہ کریں تو گناہ نہیں لیکن ثواب سے بہرحال محروم رہیں گے، اس لئے کوئی بھی نیکی چھوڑنی نہیں چاہئے ۔ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمان عظمت نشان ہے : لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَیْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَی أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ یعنی نیکی کی کسی بات کو حقیر نہ سمجھو چاہے وہ تمہارا اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا ہو ( مسلم ،کتاب البر، الحدیث:۶۲۶۲، ص۳۱۴۱ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مجھے ایک نیکی دے دیجئے
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قیامت کے دن ہمیں ایک ایک نیکی کی قدروقیمت کا احساس ہوگا ،اس ضمن میں ایک عبرت انگیز روایت ملاحظہ کیجئے ،چنانچہ حضرتِ سیِّدُناعِکْرَمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَرْوی ہے:قِیامت کے دن ایک شخص اپنے باپ کے پاس آ کر کہے گا:اَبو جان!کیا میں آپ کا فرماں بَردار نہ تھا؟کیا میں آپ سےمَحَبَّت بھرا سُلوک نہ کرتا تھا؟ کیا میں آپ کے ساتھ بھلائی نہ کرتا تھا؟