تھا۔ میں ٹھِٹھک کر وَہیں کھڑارہ گیا۔ دراز قد، مگر بدن نہایت ہی کمزور اور چہرے پر اُداسی چھائی ہوئی تھی۔ چَونک کر کھڑے ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے گلے میں پانی کا ایک ڈَول لٹکا ہوا تھا جس میں اس نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیاں ڈَ بَو رکھی تھیں، اُس کے چِہرے کو بَغور دیکھا تو کچھ آشنائی کی بُو آئی۔ میں اس کے فارِغ ہونے کا انتِظار کرنے لگا، جب اُس نے دعا ختم کی تو میں نے اُس کو سلام کیا، اُس نے سلام کا جواب دے کر میری طر ف بَغور دیکھا اور مجھے پہچان لیا۔ لمحہ بھر کے لئے اُس کے سُوکھے ہونٹو ں پرپِھیکی سی مُسکُراہٹ آئی اور فورًا ختم ہوگئی پھر حسبِ سابِق وہ اُداس ہوگیا۔ میں نے اُس سے گلے میں پانی کا ڈَول لٹکانے اور اُس میں دائیں ہاتھ کی اُنگلیاں ڈَبَو ئے رکھنے کا سبب دریافت کیا۔ اِس پر اُس نے ایک آہ ِسَرد، دلِ پُر دَرد سے کھینچنے کے بعد کہنا شُروع کیا:
میری ایک چھوٹی سی پرچُون کی دُکان ہے۔ ایک بار میرے پاس آکر ایک بِھکاری نے دستِ سُوال دراز کیا، میں نے ایک سِکَّہ نکال کر اُس کی ہتھیلی پر رکھ دیا، وہ دُعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔پھر دُو سرے دن بھی آیا اور اِسی طر ح سِکَّہ لے کر چلتا بنا۔ اب وہ روز روز آنے لگا اور میں بھی کچھ نہ کچھ اُس کو دینے لگا۔ کبھی کبھی وہ میری دُ کان پر تھوڑی دیر بیٹھ بھی جاتا اور اپنے دُکھ بھرے اَفسانے مجھے سُناتا۔ اُس کی داستا نِ غم نِشان سُن کر مجھے اُس پر بڑا تَر س آتا، یُو ں مجھے اُس سے کافی ہمدردی ہوگئی اور ہمارے درمیان ٹھیک ٹھاک یارانہ قائم ہوگیا۔ دِن گُزرتے رہے۔ ایک بار خِلافِ