لشکروں کو بغور دیکھا اور بددعا شروع کردی۔ لیکن خدا عَزَّوَجَلَّ کی شان دیکھئے کہ وہ حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے لئے بددعا کرتا تھا مگر اس کی زبان پر اس کی اپنی قوم کے لئے بددعا جاری ہوجاتی تھی۔ یہ دیکھ کر کئی مرتبہ اس کی قوم نے ٹوکا کہ اے بلعم! تم تو اُلٹی بددعا کررہے ہو۔کہنے لگا:میں کیا کروں !میں بولتا کچھ اور ہوں اور میری زبان سے کچھ اور ہی نکلتا ہے! پھر اچانک اس پر غضب ِ الٰہی نازل ہوا اوراس کی زبان لٹک کر اس کے سینے پر آگئی۔ اس وقت بلعم بن باعوراء نے اپنی قوم سے رو کر کہا : افسوس میری دنیا و آخرت دونوں تباہ وبرباد ہوگئیں، میرا ایمان جاتا رہا اور میں قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو گیاہوں۔ جاؤ! اب میری کوئی دعا قبول نہیں ہوسکتی۔
(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۷۲۷،پ۹،الاعراف:۵۷۱ملخصًّا)
؎ کس کے در پر میں جاؤں گا مولا
گر تُو ناراض ہوگیا یارب
(وسائل بخشش ص۸۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۵) پُر اسرار بھکاری
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:ایک صاحِب کا بیان ہے:مدینۃُ الاولیاء ملتان شریف میں حضرتِ سَیِّدُنا غوث بہاؤ الحقِّ وَالدِّین زکریا مُلتانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی کے مزارِ پُر اَنوار پر سلام عرض کرنے کے لئے میں حاضِر ہوا، فاتِحہ کے بعد جب لوٹنے لگا تو ایک شخص پر میری نظر پڑی جو مشغولِ دُعا