Brailvi Books

حرص
203 - 228
 خاکِستَر ہوگئی ۔ (ماخوذ ازمُکاشَفَۃُ القُلُوب، ص۶۰۳)
؎  گناہ بے عَدَد اور جُرْم بھی ہیں لاتعداد
کر عَفْوْ سہ نہ سکوں گا کوئی سزا یاربّ
(وسائل بخشش ص۳۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۳)ایک حریص کو چڑیا کی نصیحت
	حضرتِ سیِّدُنا امام شعبی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی  فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے چڑیا کو شکار کیاتو اس نے کہا: تم میرا کیا کرو گے؟ اس آدمی نے کہا: ذَبح کر کے کھاؤنگا۔ چڑیا نے کہا : میرے کھانے سے تمہارا پیٹ نہیں بھرے گا، میں تمہیں تین ایسی باتیں بتاؤں گی جو میرے کھانے سے کہیں بہتر ہیں، ایک تو میں تم کو اس قید کی حالت میںہی بتاؤنگی، دوسری درخت پر بیٹھ کر اور تیسری پہاڑ پر بیٹھ کر بتاؤں گی۔ آدمی نے کہا: چلو ٹھیک ہے پہلی بات بتاؤ۔ چڑیا نے کہا: یاد رکھو! گزری بات پر افسوس نہ کرنا۔یہ سنتے ہی آدمی نے اسے چھوڑ دیا، جب وہ درخت پر جاکر بیٹھ گئی تو آدمی نے کہا: دوسری بات بتاؤ۔ چڑیا نے کہا: ناممکن بات کو ممکن نہ سمجھنا۔ پھر وہ اڑ کر پہاڑ پر جابیٹھی اور کہنے لگی: اے بد نصیب! اگر تو مجھے ذَبح کردیتا تو میرے پوٹے سے بیس بیس مِثقال کے دو موتی نکلتے!یہ سن کر وہ شخص افسوس سے اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے کہنے لگا: اب تیسری بات بھی بتادے۔ چڑیا بولی: تم نے تو پہلی دو کو بھلا دیا ہے، اب تیسری بات کس لئے پوچھتے ہو؟ میں نے تم سے کہا تھا کہ گزشتہ بات پر افسوس نہ