Brailvi Books

حرص
202 - 228
 جَکڑدیا۔جُوں ہی آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی آنکھ کھُلی ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ایک ہی جھٹکے میںزنجیر کی ایک ایک کڑی الگ کردی اور بَآسانی آزاد ہوگئے ۔ بیوی یہ منظر دیکھ کر سَٹپٹَا گئی مگر پھر مَکّاری سے کام لیتے ہوئے وُہی بات دُہرادی کہ میں توآپ (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کو آزما رہی تھی۔دَورانِ گفتگو حضرتِ   شَمْعَونرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اپنی بیوی کے آگے اپنا راز اِفشاء کردیا کہ مجھ پراللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا بڑا کرم ہے اُس نے مجھے اپنی وِلایت کا شَرَف عِنایَت فرمایا ہے ، مجھ پر دُنیا کی کوئی چیز اَثَر نہیں کرسکتی مگر ہاں! ’’میرے سَر کے بال ‘‘ ۔ چالاک عورت ساری بات سمجھ گئی۔ آخِر ایک بار مَوقع پاکر اُس نے آپ( رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کو آپ ہی کے اُن آٹھ گیسوؤں سے باندھ دیا جِن کی درازی زَمین تک تھی۔ ( یہ اگلی اُمّت کے بزرگ تھے، ہمارے آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی سنّتِ گیسو زیادہ سے زیادہ شانوں تک ہے) آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے آنکھ کھلنے پر بڑا زور لگایا مگرآزاد نہ ہو سکے ۔دُنیا کی دولت کے نَشہ میں بَدمست بے وفا عورت نے اپنے نیک اور پارسا شوہر کو دشمنوں کے حوالے کردیا۔ کُفَّارِ بَد اَطوار نے حضرت ِشَمْعُون( رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کو ایک سُتُون سے باندھ دیا اور اِنتہائی بے دردی اور سَفَّاکی سے اُن کے ناک ، کان کاٹ ڈالے اور آنکھیں نِکال لیں۔اپنے وَلیٔ کامِل کی بے کَسی پر رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی غیرت کو جوش آیا۔ قَہرِقَہّار وغَضَبِ جَبَّار نے ظالِم کافِروں کو زَمین کے اندر دھنسادیا اوردُنیاکے لالچ میں آکربے وفائی کرنے والی بد نصیب بیوی پرقَہْرِخُداوندی کی بجلی گِری اور وہ بھی