Brailvi Books

حرص
204 - 228
 کرنا اور ناممکن چیز کو ممکن نہ سمجھنا، میں تو اپنے گوشت، خون اور پَروں سمیت بھی بیس مِثقال کی نہیں ہوں تو میرے پوٹے میں بیس بیس مثقال کے دو موتی کیونکر ہوسکتے ہیں!یہ کہا اورپُھر سے اُڑگئی۔
(مکاشفۃ القلوب،باب فضل القناعۃ،ص۳۲۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۴) زبان لٹک کر سینے پر آگئی
	بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء اپنے دور کا بہت بڑا عالم اور عابد و زاہد تھا۔ اس کو اسمِ اعظم کا بھی علم تھا۔ یہ اپنی جگہ بیٹھا ہوا اپنی روحانیت سے عرشِ اعظم کو دیکھ لیا کرتا تھا۔ بہت ہی مستجاب الدعوات تھا کہ اس کی دعائیں بہت زیادہ مقبول ہوا کرتی تھیں۔ اس کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔مشہور یہ ہے کہ اس کی درسگاہ میں طالب علموں کی صرف دواتیں بارہ ہزار تھیں۔ جب حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ’’قومِ جبارین‘‘ سے جہاد کرنے کے لئے بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوئے تو بلعم بن باعوراء کی قوم اس کے پاس گھبرائی ہوئی آئی اور کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت ہی بڑا اور نہایت ہی طاقتور لشکر لے کر حملہ آور ہونے والے ہیں، وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ہماری زمینوں سے نکال کر یہ زمین اپنی قوم بنی اسرائیل کو دے دیں۔ اس لئے(مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ) آپ موسیٰ( عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کے لئے ایسی بددعا کر دیجئے کہ وہ شکست کھا کر واپس چلے جائیں، آپ چونکہ مستجاب الدعوات ہیں اس لئے آپ کی دعا ضرور مقبول ہوجائے گی۔ یہ سن کر بلعم