رات کو قِیام اور دِن کو روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی راہ میں کُفَّار کے ساتھ جِہاد بھی کرتے ۔ وہ اِس قَدَر طاقتور تھے کہ لوہے کی وَزنی اور مَضبوط زنجیروں کو اپنے ہاتھوں سے توڑ ڈالتے تھے۔ کُفَّار ِنَاہَنجارنے جب دیکھا کہ حضرتِ شَمْعُو ن رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ پر کوئی بھی حَربہ کار گر نہیں ہوتا توباہم مشورہ کرنے کے بعد بَہُت سارے مال و دولت کا لالچ دیکر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی زَوجہ کو اِس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ کسی رات نیند کی حالت میں پائے تَوانہیں نِہایَت ہی مضبوط رَسیّوں سے خوب اچھّی طرح جَکَڑ کر اِن کے حوالے کردے ۔چُنانچِہبے وَفا بیوی نے ایساہی کیا ۔ جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ بیدار ہوئے اور اپنے آپ کو رَسیّوں سے بندھا ہوا پایا تو فوراً اپنے اَعضاء کو حَرَکت دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے رسیّاں ٹوٹ گئیں اور آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ آزاد ہوگئے ۔ پھر اپنی بیوی سے اِسْتِفسَار کیا : مجھے کِس نے باندھا تھا؟ بے وفا بیوی نے وفاداری کی نَقلی اَداؤں سے جُھوٹ مُوٹ کہہ دیا کہ میں تو آپ کی طاقت کا اندازہ کررہی تھی کہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اِن رسیّوں سے کِس طرح اپنے آپ کو آزاد کرواتے ہیں۔ بات رَفع دَفع ہوگئی۔ ایک بار ناکام ہونے کے باوُجُود بے وفا بیوی نے ہِمّت نہیں ہاری اور مُسَلْسَل اِس بات کی تاک میں رہی کہ کب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ پر نیند طاری ہو اوروہ اِنہیں باند ھ دے۔ آخِر کار ایکبارپھر موقع مل ہی گیا۔لہٰذا جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ پر نیند کا غَلَبہ ہُوا تو اُس ظالِمہ نے نِہایَت ہی چالاکی کے ساتھ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو لوہے کی زنجیروں میں اچھّی طرح