کر سونا تقسیم کرلیں۔چُنانچِہ ان میں سے ایک شخص شہر پہنچا ، کھانا خرید کرواپَس ہونے لگا تو اس نے سوچا کہ بہتر یہ ہے کہ کھانے میں زَہر ملا دُوں تا کہ وہ دونوں کھا کرمر جائیں اور سارا سونا میں ہی لے لوں ۔ یہ سوچ کر اس نے زَہر خرید کر کھانے میں ملا دیا۔ اُدھر اُن دونوں نے یہ سازش کی کہ جیسے ہی وہ کھانا لیکر آئے گا ہم دونوں ملکر اُس کو مار ڈالیں گے اور پھر سارا سوناآدھا آدھا بانٹ لیں گے۔چُنانچِہ جب وہ شخص کھانا لیکر آیا تو دونوں اُس پرپِل پڑے اور اُس کوقتل کر دیا۔اس کے بعد خوشی خوشی کھانا کھانے کیلئے بیٹھے تو زَہرنے اپنا کام کر دکھایا اور یہ دونوں لالچی بھی تڑپ تڑپ کر ٹھنڈے ہو گئے اور سونا جُوں کا تُوں پڑا رہا۔ پھر حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام واپَس لوٹے تو چند آدَمی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے ہمراہ تھے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے سونے اور تینوں لاشوں کی طرف اشارہ کر کے ہمراہیوں سے فرمایا: دیکھ لو دُنیا کا یہ حال ہے پس تم کو لازم ہے کہ اس سے بچتے رہو۔
( اِتحافُ السَّا دَ ۃِ المُتّقِین، ج۹،ص۵۳۸)
نہ مجھ کوآزما دنیا کا مال وزر عطا کرکے
عطا کر اپنا غم اور چشمِ گریا ں یا رسول اللّٰہ!
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲)لالچی بیوی کا انجام
حضرتِ سیدناشَمْعُون رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ہزار ماہ اِس طرح عِبادت کی کہ