اُوپر چلتے ہوئے دریا کے دوسرے کَنارے پہنچ گئے۔ آپعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے اُس شخص سے فرمایا: تجھے اُس خدا عَزَّوَجَلَّکی قسم ! جس نے مجھے یہ مُعجِزہ دکھانے کی قُدرت عطا کی، سچ بتا کہ وہ تیسری روٹی کہاں گئی؟وہ بولا:’’ مجھے نہیں معلوم!‘‘ آپعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا:’’ آؤ آگے چلیں۔‘‘ چلتے چلتے ایک ریگستان میں پہنچے، آپعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے رَیت کی ایک ڈھیری بنائی اور فرمایا:’’ اے رَیت کی ڈھیری! اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے حُکم سے سونا بن جا۔‘‘ وہ فوراً سونا بن گئی، آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اُس کے تین حصّے کئے پھر فرمایا:’’یہ ایک حصّہ میرا ہے اور ایک حصّہ تیرا اور ایک اُس کا جس نے وہ تیسری روٹی لی۔‘‘ یہ سُنتے ہی وہ شخص جھٹ بول اُٹھا: یاروحَ اللّٰہ ! وہ تیسری روٹی میں نے ہی لی تھی۔ آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: یہ سارا سونا تُوہی لے لے۔ پھر اس کو چھوڑ کر آگے تشریف لے گئے ۔
یہ شخص سونا چادر میںلپیٹ کر اکیلا ہی روانہ ہوا۔راستے میں اسے دو شخص ملے، اُنہوں نے جب دیکھا کہ اس کے پاس سونا ہے تو اس کو قتل کر دینے کے لئے تیّار ہو گئے تا کہ سونا لے لیں۔ وہ شخص جان بچانے کی خاطر بولا: تم مجھے قتل کیوں کرتے ہو!ہم اس سونے کے تین حصّے کر لیتے ہیں اور ایک ایک حصّہ بانٹ لیتے ہیں۔ وہ دونوں اس پرراضی ہو گئے ۔ وہ شخص بولا: بہتر یہ ہے کہ ہم میں سے ایک شخص تھوڑا سا سونا لے کر قریب کے شہر میں جائے اور کھانا خرید کر لے آئے تا کہ کھا پی