Brailvi Books

حرص
198 - 228
شریعت حاصِل کرنا چاہتاہوں۔آپ  عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے اُس کو اجازت دے دی۔ چلتے چلتے جب دونوں ایک نَہَر کے کَنارے پہنچے توآپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے فرمایا:’’ آؤ کھانا کھا لیں۔‘‘ آپعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے پاس تین روٹیاں تھیں ۔ جب ایک ایک روٹی دونوں کھا چکے تو حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نَہَر سے پانی نوش فرمانے لگے۔اِسی دوران اُس شخص نے تیسری روٹی چُھپا لی ۔ جب آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام تشریف لائے تو روٹی موجود نہ پا کر اِ ستفِسار فرمایا:’’ تیسری روٹی کہاں گئی؟‘‘ اُس نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا:مجھے نہیں معلوم ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام خاموش ہو رہے۔ تھوڑی دیر بعد فرمایا : ’’ آؤ آگے چلیں۔‘‘ راستہ میں ایک ہرنی ملی جس کے ساتھ دو بچّے تھے، آپعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ہرنی کے ایک بچّے کو اپنے پاس بلایا، وہ آگیا، آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اُسے ذَبح کیا ، بُھونا اور دونوں نے مل کر کھایا۔ گوشت کھا چکنے کے بعد آپ نے ہڈِّیّوں کوجَمع کیا اور فرمایا: قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہ (اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے زندہ ہو کر کھڑا ہوجا) ہِرنی کا بچّہ زندہ ہو کر اپنی ماں کے ساتھ چلا گیا۔ آپعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اُس شخص سے فرمایا: تجھے اُس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس نے مجھے یہ مُعجِزہ دکھانے کی قُدرت عطا کی ! سچ بتا ، وہ تیسری روٹی کہاں گئی؟وہ بولا:’’ مجھے نہیں معلوم۔‘‘ فرمایا:’’ آؤ آگے چلیں۔‘‘ چلتے چلتے  ایک دریا پر پہنچے ۔ آپعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے اُس شخص کا ہاتھ پکڑا اور پانی کے