شخص ان میں سے ایک ٹہنی پکڑتا ہے وہ اس کو جنت کی طرف لے جاتی ہے۔
(الجامع الصغیر للسیوطی،حرف السین،فصل فی المحلی بأل۔۔۔الخ،الحدیث:۳۰۸۴،ص۵۹۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ہر حال میں سخاوت کرنی چاہئے
امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی لکھتے ہیں : جب مال نہ ہو تو بندے کو قناعت اپنا کر حِرْص کوکم کرنا چاہیے اور جب مال موجود ہو تو اِیثار اور سخاوت اختیار کرے، اچھے کام کرے اور کنجوسی اور بخل سے دُور رہے کیونکہ سخاوت انبیاء کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام کے اخلاق سے ہے اور نجات کی اصل بھی یہی ہے۔
(احیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل وذم حب المال،ج۳،ص۰۰۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مال کے تین حصے دار
حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:’’ مال میں تین حصے دار ہوتے ہیں:(۱) تقدیر، یہ وہ حصے دار ہے جسے بھلائی اور برائی (یعنی مال یاتجھے ہلاک کرنے) میں تیری اجازت کی حاجت نہیں(۲)دوسرا حصے دار تیرا وارث،اسے اس بات کا انتظار ہے کہ تو مرے اور یہ تیرے مال پر قبضہ کرے اور (۳) تیسرا حصے دار توُخودہے ، یقیناتم ان دونوں حصے داروں کو عاجز نہیں کرسکتے لہٰذا اپنا مال راہِ خدا عَزَّوَجَلَّمیں خرچ کردو۔‘‘ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے: