کئے جاتے، اس کیلئے در بدر بھٹکتے پھرتے اور مال بڑھانے کے نظام کو بہتر سے بہترین بناتے چلے جاتے ہیں اُنہیں اپنی اس رَوِش پر نظرِ ثانی کر لینی چاہئے اور جو صورت دنیا و آخِرت دونوں کیلئے بہترہو وہ اختیار کرنی چاہئے۔(نیکی کی دعوت ص ۳۵۳)
؎ میری ہر خصلتِ بد دُور ہو جانِ عالَم!
نیک بن جاؤں میں سرکار، رسول عَرَبی
(وسائل بخشش ص۶۲۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(گیارھواں علاج)سخاوت اپنا لیجئے
مال کا تریاق یہ ہے کہ اس سے گزراوقات کے لئے لینے کے بعد بقیہ اچھے کاموں پر خرچ کردیا جائے ۔امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیر ِخدا کَرَّمَ اللّٰـہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْــــکَرِیْم فرماتے ہیں: اگر تمہارے پاس دنیا آجائے تو اس سے خرچ کرو کیونکہ اسے ہمیشگی نہیں اور اگر دنیا تم سے جانے لگے تب بھی اس میں سے خرچ کرو کیونکہ یہ باقی رہنے والی نہیں ہے۔
(احیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل وذم حب المال،ج۳،ص۴۰۳)
جنتی درخت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !سخاوت کی فضیلتوں کے کیا کہنے !سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سخاوت جنت کے درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کی ٹہنیاں دنیا کی طرف جھکی ہوئی ہیں تو جو